تیسرا ہے ۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''میری غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ایک کے سوا دوسرے کو رب مانوں، اس لئے میں نے فوراً انکار کر دیا۔ اس پر معلم نے مجھ کو مارنا شروع کیا۔ وہ جس شدت سے مارتا میں اسی جرأت سے انکار کرتا ۔آخر عاجز ہو کر اس نے میرے والدین سے کہا کہ اس کو قید کر دو۔تین روز تک قید میں رہا اور ہر روز ایک روٹی ملتی تھی مگر میں نے اس کو چھوا تک نہیں ۔ جب مجھے وہاں سے نکالا گیا تو میں بھاگ گیا ۔چونکہ میں والدین کا ایک ہی بیٹا تھا اس لئے میری جدائی سے انہیں سخت قلق ہوا ۔وہ کہنے لگے :''ہمارا بیٹا جہاں بھی گیاہے ہمارے پاس لوٹ توآئے ،وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے ہم بھی اسی کے ساتھ اپنا دین تبدیل کردیں گے۔'' جب میں حضرت سیدنا امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست مبارک پر داخلِ اسلام ہو کر ایمان کی انمول دولت کو اپنے سینے سے لگائے گھر واپس ہوا ،میرے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ میرے والدین بھی مسلمان ہو گئے۔