ایک فنکار کا واقِعہ پڑھئے جسے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے مَدَنی رنگ چڑھا دیا۔ چُنانچِہ اورنگی ٹاؤن ( بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: افسوس صد کروڑ افسوس! میں ایک فنکار تھا، میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز کرتے ہوئے زندگی کے انمول اوقات برباد ہوئے جارہے تھے، قلب ودماغ پر غفلت کے کچھ ایسے پردے پڑے ہوئے تھے کہ نہ نَماز کی توفیق تھی نہ ہی گناہوں کا احساس ۔ صحرائے مدینہ ٹُول پلازہ سُپر ہائی وے بابُ المدینہ کراچی میں بابُ الاسلام سطح پر ہونے والے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع (۱۴۲۴ھ۔ 2003 ) میں حاضِری کیلئے ایک ذِمّہ دار اسلامی بھائی نے انفِرادی کوشِش کر کے ترغیب دلائی۔ زہے نصیب! اُس میں شرکت کی سعادت مل گئی۔تین روزہ اجتِماع کے اختتام پر رقّت انگیز دُعا میں مجھے اپنے گناہوں پر بَہُت زیادہ نَدامت ہوئی ، میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا ، پھوٹ پھوٹ کر رویا، بس رونے نے کام دکھادیا! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول مل گیا۔اور میں نے رقص و سَرود (سَ۔رَوْ۔د) کی محفلوں سے توبہ کر لی اور مَدَنی قافِلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیا۔
25دسمبر 2004 کو میں جب مَدَنی قافِلے میں سفر پر روانہ ہو رہا تھا کہ چھوٹی ہمشیرہ کا فون آیا، بھرّائی ہوئی آواز میں انہوں نے اپنے یہاں ہونے والی نابینا بچّی کی ولادت کی خبر سنائی اور ساتھ ہی کہا ، ڈاکٹروں نے کہہ دیا ہے کہ اِس کی آنکھیں روشن نہیں ہوسکتیں ۔ اتناکہنے کے بعد بند ٹوٹا اور چھوٹی بہن صدمے سے بِلک بِلک کر رونے لگی ۔ میں نے یہ کہ کر ڈھار س بندھا ئی کہ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ مَدَنی