صوبہ پنجاب کے شہر گلزارِ طیبہ(سرگودھا) کے مبلغِ دعوتِ اسلامی کے حلفیہ بیان کا خُلاصہ ہے کہ غالباً 1995ء کی بات ہے مجھے یہ خوشخبری ملی کہ (واہ کینٹ) میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا سنتوں بھرا بیان ہے ۔چنانچہ میں نے انفرادی کوشش کے ذریعے عاشقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافِلہ تیار کیا کہ سفر کے اختتام پر سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت پائیں گے ۔ شرکاء میں میرے بہنوئی بھی شامل تھے جو کرامات اولیاء کے منکرین کی صحبت میں بیٹھنے کے باعث عقائد کے معاملے میں تَذَبْذُب کا شکار تھے۔
اسی دوران ایک پیدائشی نابینا حافظ صاحب تشریف لے آئے جو کسی اور پیر صاحب سے نقشبندی سلسلے میں مُرید تھے اور امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے طالب تھے اور آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔وہ بھی مَدَنی قافلے میں سفر کیلئے اصرار کرنے لگے۔ انہیں سمجھا یا گیا کہ آپ نابینا ہیں،3 دن سفر میں کس طرح رہ سکیں گے؟ مگر وہ بضد رہے حتیٰ کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،وہ کہنے لگے، کہ زندگی میں کم از کم ایک بار اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس ولی یعنی امیرِ