کے66 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں ، مختلف ممالک میں کُفار بھی مُبَلِّغینِ دعوتِ اسلامی کے ہاتھوں مُشَرَّف بہ اسلام ہوتے رَہتے ہیں۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کی جہدِمسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کردیاجس کی بدولت وہ فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر سبز سبز عمامے کے تاج اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجالیتے ہیں ۔
امیرِ اہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے منفرد اور تاریخی کام کا بیّن ثُبوت یہ ہے کہ امتِ محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جن شعبوں کی حاجت تھی ،آپ ان شعبوں کو قائم کرنے میں مصروف ہو گئے اور آج الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ ان میں سے کئی شعبہ جات میں کام شروع ہوچکا ہے، مَثَلاًمساجد کی تعمیرات کے لئے''خدام ُالمساجد'' ،حفظ و ناظرہ کے لئے''مدرَسۃ المدینہ'' بالِغان کی تعلیمِ قرآن کے لئے ، ''مدرَسۃُ المدینہ برائے بالِغان''،شرعی مسائل میں رَہنمائی کے لئے '' دار ُالاِفتاء'' ،علماء کی تیاری کے لئے ''جامعۃُ المدینہ'' ، تربیتِ اِفتاء کے لئے'' تَخَصُّصْ ِفی الفِقہ'' اور امّت کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لئے'' مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ ''پیغامِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کو عام کرنے کے لئے ''مجلسِ المدینۃُ العِلْمِیّۃ'' ، تصنیفات وتالیفات کو شرعِی اَغلاط وغیرہ سے مَحفوظ رکھنے کے لئے''مجلسِ تفتیشِ کتب و رَسائل ''، روحانی علاج کے لئے'' مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ''،اسلامی بہنوں کو باحیا بنانے کے لئے ان کے ''ہفتہ وار اجتماعات و دیگر