Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
124 - 216
نبیِّ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کی آرزو لیے روضہ اَطہر کے سامنے دیر تک صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہے، مگر پہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی۔ اس موقع پر وہ معروف نعتیہ غزل لکھی جس کے مَطْلَع میں دامنِ رحمت سے وابَستگی کی اُمّیددکھائی ہے ۔ ؎
وہ سُوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
لیکن مَقْطَع میں مذکورہ واقِعہ کی یاس انگیز کیفیت کے پیشِ نظر اپنی بے مائیگی کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔     ؎
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاؔ

تجھ سے شَیدا ہزار پھرتے ہیں
(اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مِصرعِ ثانی میں بطورِ عاجزی اپنے لیے ''کُتّے'' کا لفظ اِستعمال فرمایا ہے مگر امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے اَدَباً یہاں ''شیدا'' لکھ دیا ہے)

یہ غَزَل عرض کرکے دیدار کے اِنتظار میں مُؤَدَّب بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی اور چشمانِ سر سے بیداری میں زیارتِ حُضُورِ اَقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم سے مشرَّف ہوئے۔(حیات اعلٰی حضرت ،ج ۱، ص ۹۲، مکتبۃ المدینہ، بابُ المدینہ کراچی)

    سبحٰنَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ ! قربان جائیے ان آنکھوں پر کہ جنہوں نے عالمِ بیداری میں محبوبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کا دیدار کیا۔کیوں نہ ہو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اندر عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور آپ رحمۃ
Flag Counter