Brailvi Books

شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ
123 - 216
فرماتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسی روز سے دَور شُروع کردیا جس کا وَقْت غالِباً عشاء کا وُضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرمالیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تیسویں روز30 واں پارہ یاد فرمالیا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللہُ تَعالٰی عَلٰی محمَّد
عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم
    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سراپا عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کا نُمُونہ تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا نعتیہ کلام (حدائقِ بخشش شریف ) اس اَمرکا شاہد ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نوکِ قلم بلکہ گہرائی قَلب سے نِکلا ہوا ہر مِصْرَعَہ آپ کی سروَرِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم سے بے پایاں عقیدت و مَحَبَّت کی شہادت دیتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی کسی دُنیوی تاجدار کی خوشامد کے لیے قصیدہ نہیں لکھا، اس لیے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضور تاجدارِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم کی اِطاعت و غلامی کو دل وجان سے قبول کرلیا تھا۔ اس کا اظہار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے ایک شعر میں اس طرح فرمایا۔
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

لِلّٰہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
چشمانِ سر سے زیارتِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ و سلّم
    جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دوسری بار حج کے لیے تشریف لے گئے تو زیارتِ
Flag Counter