| شرحِ شجرہ قادِریہ رضویہ عطاریہ |
دُعائیہ شعر کا مفہوم:
یا اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے حضرتِشاہ ابوا لبَرَکات آلِ محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا واسطہ مجھے نبیِ پاک، صاحبِ لولاک صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کے اَہلِ بیت کی محبت عطا فرما اورحضرت شاہ سید حمزہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وسیلے سے مجھے بھی شہیدِعشق بنا یعنی اپنی محبت میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والا بنادے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلموضاحت:
'' حمزہ'' کے ساتھ'' شہید'' ذکر کرنے میں سَیِّدُ الشُّہَداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے راہ حق میں شہید ہونے کی طرف اشارہ ہے۔صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تذکرہ:
اس شعر میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چونتیسویں اور پینتیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرتِشاہ ابوا لبَرَکات آلِ محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرتِ سیِّدُناشاہ حمزہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں بُزُرگوں رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں: