ایک بار فرخ آباد کے ایک شخص شجاعت خان نے مارہرہ شریف کی سرائے میں قیام کیا ۔ اُس نے سوچا کہ حضور صاحب البرکات رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو صاحب تصرف اس وقت سمجھوں گا کہ وہ مجھے ملاقات کے وقت کچھ کھانے کو دیں ۔ عصر کے وقت جب وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو اُس وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست مبارک میں باجرے کی روٹیاں اور گوشت پڑا ہو امیتھی کا ساگ تھا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شجاعت خاں کو دیکھ کر مسکرائے تو شجاعت کے پاؤں کپکپانے لگے اور جسم میں لرزہ طاری ہو گیا۔آپ نے شجاعت خاں کو باجرے کی روٹی اور وہ ساگ عنایت فرمایا۔اس کے بعد سے شجاعت خاں کو آپ کے صاحب تصرف ہونے کا یقین کامل ہو گیا۔