علاّمہ عبدُ المصطفٰے اَعظَمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقْل فرماتے ہیں : رِوایت ہے کہ ایک روز حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ نے حُضور نبیِّ کریم،رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت کی۔ جب دونوں عالَم کے میزبان حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے مکان پر رونق افروز ہوئے تو حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ آپ کے پیچھے چلتے ہوئے آپ کے قدموں کو گننے لگے اور عرْض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان! میری تمنا ہے کہ حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک ایک قدَم کے عِوَض میں آپ کی تعظیم وتکریم کے لیے ایک ایک غلام آزاد کروں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے مکان تک جس قدَر حُضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قدَم پڑے تھے حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے ا تنی ہی تعدا دمیں غلاموں کو خرید کر آزاد کردیا۔
حضرتِ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اس دعوت سے مُتَأَثِّر ہوکر حضرتِ سیِّدَہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کہا: اے فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا! آج میرے دینی بھائی حضرتِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ نے حُضورِ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بڑی ہی شاندار دعوت کی ہے اورحُضورِ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر ہر قدَم کے بدلے ایک غلام آزاد کیاہے، میری بھی تمنّا