فرائض میں یہ بھی ہے کہ اگر شوہر غریب ہو اور گھریلو کام کاج کے لئے نوکرانی رکھنے کی طاقت نہ ہو تو اپنے گھر کا کام کاج خود کرلیا کرے اس میں ہر گز ہرگز نہ عورت کی کوئی ذلت ہے نہ شرم۔ بخاری شریف کی بہت سی رِوایَتوں سے پتا چلتا ہے کہ خود رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُقدَّس صاحبزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بھی یہی معمول تھا کہ وہ اپنے گھر کا سارا کام کاج خود اپنے ہاتھوں سے کیا کرتی تھیں ،کنوئیں سے پانی بھر کر اور اپنی مُقدَّس پیٹھ پر مَشْک لاد کر پانی لایا کرتی تھیں ، خود ہی چکی چلا کر آٹا بھی پیس لیتی تھیں اسی وجہ سے ان کے مُبارَک ہاتھوں میں کبھی کبھی چھالے پڑ جاتے تھے اسی طرح امیرُالمؤمِنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کی صاحبزادی حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مُتَعَلِّق بھی رِوایت ہے کہ وہ اپنے غریب شوہر حضرتِ سیِّدُنا زُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے یہاں اپنے گھر کا سارا کام کاج اپنے ہاتھوں سے کر لیا کرتی تھیں یہاں تک کہ اُونٹ کو کھلانے کے لئے باغوں میں سے کھجوروں کی گٹھلیاں چن چن کر اپنے سر پر لاتی تھیں اور گھوڑے کے لئے گھاس چارہ بھی لاتی تھیں اور گھوڑے کی مالش بھی کرتی تھیں ۔
مزید فرماتے ہیں : ہر بیوی کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی آمدنی اور گھر کے اَخراجات کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے اور گھر کا خرچ اس طرح چلائے کہ