دُشوار ہے اور اب ہمارے گھر میں فلمیں ڈِرامے اور گانے نہیں بلکہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعتوں کے ترانے سنے جاتے ہیں ۔
(پردے کے بارے مں سُوال جواب، ص۶۲)
نہ مرنا یاد آتا ہے نہ جینا یاد آتا ہے
محمد یاد آتے ہیں مدینہ یاد آتا ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! بغیر ہمّت ہارے خوب خوب اِنفِرادی کوشش کرتی رہیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ! ناکامی نہیں ہو گی۔ اِس ضِمْن میں اگر کوئی تکلیف بھی پہنچ جائے تو صبر وشکیبائی کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑئیے کہ آنے والی مصیبت اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ! بَہُت بڑی بھلائی کا پیش خَیمہ ثابت ہو گی۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رُوح پروَر ہے، ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اُسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔‘‘ (صَحِیْحُ الْبُخَارِی،کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارۃ المرض، ص۱۴۳۲، الحدیث:۵۶۴۵)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد