خاتونِ جنّت، بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا خود تَنُور میں روٹیاں لگایا کرتیں ، گھر میں جھاڑو دیتیں اورچکی پیستی تھیں جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے، رنگ مُبارَک مُتَغَیَّر اور کپڑے گَرْد آلود ہو گئے تھے۔ ایک دفعہ خادِم کی طلب میں بارگاہِ مصطفٰے میں حاضر ہوئیں تو تسبیحِ فاطمہ کا تحفہ ملا، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آقائے نامدار، دوعالَم کے مالِک ومُختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خادم کا سوال کیا: حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاارشاد: ’’تمہیں ہمارے پاس خادم تو نہیں ملے گا، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادِم سے بہتر ہے؟تم جب بستر پر جاؤ تو 33بار سُُبْحٰنَ اللہ، 33بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہاور 34بار اللہُ اَکْبَر پڑھ لیا کرو۔‘‘ (صَحِیْح مُسْلِم،کتاب الذکر والدعاء والنوبۃوالاستغفار،باب التسسیح اول النھاروعند النوم، ص۱۰۴۸، الحدیث:۲۷۲۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جوشریعت وطریقت کاجامع مجموعہ اسلامی بہنوں کیلئے بنام 63 مدَنی انعامات بصورت