کتب کی طرف رجوع کریں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3,4}…سیِّدُنا محسن وسیِّدَتُنا رُقیّہ
حضرتِ سیِّدُنا محسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا رُقیّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا انتقال تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا اس لئے تاریخ وسیرت کی کتابوں میں ان کا تذکرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5}…سیِّدَتُنا زینب کا ذکرِ خیر
حضرتِ سیِّدَہ زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی بڑی شہزادی ہیں ۔ان کی کُنْیَت اُمُّ الحسن تھی اور واقعہ کربلا کے بعد ان کی کُنْیَت اُمُّ المصائب مشہور ہو گئی تھی۔
سیِّدَہ زینب کا نکاح
حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے اپنی لختِ جگر حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح حضرتِ سیِّدُنا جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے فرمایا۔(اُسُدُ الْغَابَۃِ فِی مَعْرِفَۃِ الصَّحَابَۃ، حرف الزای، زینب بنت علی، ج۷، ص۱۳۴)