منہ کر کے سانس لو ، (یعنی سانس لیتے وقت گلاس منہ سے ہٹا لو)گرم دودھ یا چائے کو پھونکوں سے ٹھنڈا نہ کرو بلکہ کچھ ٹھہرو ، قدرے ٹھنڈی ہو جائے پھر پیو۔ (مراٰۃ ،ج۶ ،ص ۷۷) البتّہ درودِ پاک وغیرہ پڑھ کر بہ نیّتِ شفا پانی پر دم کرنے میں حَرَج نہیں خ پینے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہ پڑھ لیجئے (3) چوس کرچھوٹے چھوٹے گُھونٹ پئیں ، بڑے بڑے گُھونٹ پینے سے جِگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے (4)پانی تین سانس میں پئیں (5)بیٹھ کر اورسیدھے ہاتھ سے پانی نوش کیجئے (6) لَوٹے وغیرہ سے وُضو کیا ہو تو اُس کا بچا ہوا پانی پینا 70 مرض سے شِفا ہے کہ یہ آبِ زم زم شریف کی مُشابَہَت رکھتا ہے، ان دو (یعنی وُضو کا بچا ہوا پانی اورزم زم شریف ) کے عِلاوہ کوئی سابھی پانی کھڑے کھڑے پینا مکروہ ہے۔ (ماخوذاز:فتاوی رضویہ، ج۴،ص۵۷۵، ج ۲۱،ص ۶۶۹)یہ دونوں پا نی قبلہ رُو ہو کر کھڑے کھڑے پئیں (7)پینے سے پہلے دیکھ لیجئے کہ پینے کی شے میں کوئی نقصان دہ چیز وغیرہ تو نہیں ہے (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی،ج ۵، ص ۵۹۴) (8)پی چکنے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہیے (9)حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر پینا شروع کرے پہلی سانس کے آخِر میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دوسرے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن اور تیسرے سانس کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھے (اِحیاء الْعُلُوم ، ج۲،ص ۸) خ گلاس میں بچے ہوئے مسلمان کے صاف ستھرے جھوٹے پانی کو قابلِ استعمال ہونے کے باوجود خوامخواہ پھینکنا نہ چاہئے (10) منقول ہے:سُؤْرُ الْمُؤمِنِ شِفَاء یعنی مسلمان کے جھوٹے میں شِفا ہے (کشف الخفاء ، ج۱ ۔ص۳۸۴) (11) پی لینے کے چند لمحوں کے بعد خالی گلاس کو دیکھیں گے تو اس کی دیواروں سے بہ کر چند قطرے پیندے میں جمع ہوچکے ہوں گے انہیں بھی پی لیجئے۔