Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
85 - 872
اس قدر علم عطا فرمایا کہ آپ کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا۔ اور آپ پر ایسی کتاب نازل ہوئی جس کی شان
تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ
 (ہر ہر چیز کا روشن بیان) ہے حضرت مولانا جامی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ     ؎
                    نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت

                      بغمزہ سبق آموز صد مدرس شد
یعنی میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہ کبھی مکتب میں گئے ،نہ لکھنا سیکھامگر اپنے چشم و ابرو کے اشارہ سے سیکڑوں مدرسوں کو سبق پڑھادیا۔

ظاہر ہے کہ جس کا استاد اور تعلیم دینے والا خلاق عالم جل جلالہ ہو بھلا اس کو کسی اور استاد سے تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہو گی؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ     ؎
  ایسا امی کس لئے منت کش استاذ ہو

                     کیا کفایت اس کو اقرء ربک الاکرم نہیں
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے امی لقب ہونے کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس کو تو خدا وند علام الغیوب کے سوا اور کون بتا سکتا ہے؟ لیکن بظاہر اس میں چند حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہیں ۔

    اوّل۔ یہ کہ تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا استاد صرف خداوند عالم ہی ہو، کوئی انسان آپ کا استاد نہ ہوتاکہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔

    دوم۔ یہ کہ کوئی شخص کبھی یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter