Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
84 - 872
 سے ٹیک لگا کر بٹھادیا اور دعا مانگنے میں مشغول ہوگئے۔ درمیان دعا میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگشت مبارک کو آسمان کی طرف اٹھا دیا ایک دم چاروں طرف سے بدلیاں نمودار ہوئیں اور فوراً ہی اس زور کا بارانِ رحمت برسا کہ عرب کی زمین سیراب ہو گئی۔ جنگلوں اورمیدانوں میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آنے لگا۔ چٹیل میدانوں کی زمینیں سرسبز و شاداب ہو گئیں۔ قحط دفع ہو گیااور کال کٹ گیا اور سارا عرب خوش حال اور نہال ہو گیا۔

چنانچہ ابوطالب نے اپنے اس طویل قصیدہ میں جس کو انہوں نے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدح میں نظم کیا ہے اس واقعہ کو ایک شعر میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ ؎
وَاَبْیَضَ یُسْتَسْقَی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ		ثِمَالُ الْیَتَامِیْ عِصْمَۃٌ لِّـلْاَرَامِلِ
    یعنی وہ (حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) ایسے گورے رنگ والے ہیں کہ ان کے رخ انور کے ذریعہ بدلی سے بارش طلب کی جاتی ہے وہ یتیموں کا ٹھکانااور بیواؤں کے نگہبان ہیں۔(1)(زرقانی علی المواہب ج۱ ص۱۹۰)
اُ مّی لقب
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لقب ''اُمّی'' ہے اس لفظ کے دو معنی ہیں یا تو یہ ''اُم القریٰ'' کی طرف نسبت ہے۔ ''اُم القریٰ'' مکہ مکرمہ کا لقب ہے۔ لہٰذا ''اُمی'' کے معنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے یا''اُمّی'' کے یہ معنی ہیں کہ آپ نے دنیا میں کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ یہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی آپ کو نہیں پڑھایا لکھایا۔ مگر خداوند قدوس نے آپ کو
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، ذکر وفاۃ امہ وما یتعلق بابویہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۱،ص۳۵۵
Flag Counter