Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
834 - 872
ہو کر کہا کہ''وا حزناہ'' (ہائے رے غم) یہ سن کر حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بستر موت پر تڑپ کر کہا کہ
وَا طَرَبَاہُ غَدًا اَلْقَی الْاَحِبَّۃَ مُحَمَّدًا وَّحِزْبَہٗ (1)(زرقانی علی المواہب)
واہ رے خوشی میں کل تمام دوستوں سے یعنی محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے ملوں گا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
    حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کتنی محبت ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم!حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہمارے مال،ہماری اولاد،ہمارے باپ ،ہماری ماں اورسخت پیاس کے وقت پانی سے بھی بڑھ کر ہمارے نزدیک محبوب ہیں۔(2)(شفاء شریف جلد۲ ص۱۸)
عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا عشق
    حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا پاؤں سن ہو گیا۔ لوگوں نے ان کو اس مرض کے علاج کے طور پر یہ عمل بتایا کہ تمام دنیا میں آپ کو سب سے زائد جس سے محبت ہواس کو یاد کرکے پکارئیے یہ مرض جاتا رہے گا۔ یہ سن کر آپ نے''یامحمداہ'' کا نعرہ مارا اور آپ کا پاؤں اچھا ہو گیا۔(3)(شفاء شریف جلد۲ ص۱۸)
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،القسم الثانی فیمایجب علی الانام...الخ،الباب 

الثانی،فصل فیماروی عن السلف والائمۃ،الجزء الثانی،ص۲۳

2۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،القسم الثانی،الباب الاول،فصل فیماروی عن السلف 

والائمۃ،الجزء الثانی،ص۲۲

3۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،القسم الثانی،الباب الاول،فصل فیماروی عن السلف

والائمۃ،الجزء الثانی،ص۲۳
Flag Counter