| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
لڑکی نے قبر سے نکل کر جواب دیا کہ اے حضور! میں آپ کے دربار میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا کہ ''کیا تم پھر دنیا میں لوٹ کر آنا پسند کرتی ہو؟ لڑکی نے جواب دیا کہ ''نہیں یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں نے اﷲ تعالیٰ کو اپنے ماں باپ سے زیادہ مہربان اور آخرت کو دنیا سے بہتر پایا۔'' (1)(زرقانی علی المواہب جلد۵ ص۸۲ ۱ و شفاء جلد۱ص۲۱۱)
پکی ہوئی بکری زندہ ہو گئی
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک بکری ذبح کرکے اس کا گوشت پکایا اور روٹیوں کا چورہ کرکے ثرید بنایا اور اس کو بارگاہ نبوت میں لے کر حاضر ہوئے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس کو تناول فرمایا جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے تو حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام ہڈیوں کو ایک برتن میں جمع فرمایا اور ان ہڈیوں پر اپنا دستِ مبارک رکھ کر کچھ کلمات ارشاد فرما دئیے تو یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ وہ بکری زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی اور دم ہلانے لگی پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے جابر! تم اپنی بکری اپنے گھر لے جاؤ۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب اس بکری کو لے کرمکان میں داخل ہوئے تو ان کی بیوی نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ بکری کہاں سے آگئی؟ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم نے اپنی اس بکری کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے ذبح کیا تھا، انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اﷲ تعالیٰ نے اس بکری کو زندہ فرما دیا۔ یہ سن کر ان کی بیوی نے بلند آواز سے کلمۂ شہادت پڑھا۔اس حدیث کو جلیل القدر محدث ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور مشہور حافظ
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی ،باب ابراء ذوی العاھات...الخ ،ج۷،ص ۶۱،۶۲