Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
765 - 872
 علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں بتادوں کہ سب سے بڑھ کر دو بدبخت انسان کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کیاکہ ہاں یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )بتائیے ۔آپ نے ارشاد فرمایاکہ ایک قوم ثمود کا سرخ رنگ والا وہ بدبخت جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کیا اور دوسرا وہ بدبخت انسان جو اے علی!تمہارے یہاں پر (گردن کی طرف اشارہ کیا) تلوار مارے گا۔(1)

            (مستدرک حاکم جلد ۳ ص ۱۴۰ تاص ۱۴۱مطبوعہ حیدرآباد)

    یہ غیب کی خبر اس طرح ظہور پذیر ہوئی کہ ۱۷ رمضان  ۴۰ ھ؁ کو عبدالرحمن بن ملجم خارجی نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر تلوار سے قاتلانہ حملہ کیا جس سے زخمی ہو کر دو دن بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شہادت سے سرفراز ہوگئے۔(2) (تاریخ الخلفاء)
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے خوشخبری
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حجۃ الوداع میں مکہ معظمہ جا کر اس قدر شدید بیمار ہوگئے کہ ان کو اپنی زندگی کی امید نہ رہی۔ ان کو اس بات کی بہت زیادہ بے چینی تھی کہ اگر میں مر گیا تو میری ہجرت نامکمل رہ جائے گی۔ حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کی بے قراری دیکھ کر تسلی دی اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی اور یہ بشارت دی کہ امید ہے کہ تم ابھی نہیں مرو گے بلکہ تمہاری زندگی لمبی ہوگی اور بہت سے لوگوں کو تم سے نفع اور بہت سے لوگوں کو تم سے نقصان پہنچے گا۔(3)(بخاری جلد ۱ ص ۳۸۳ کتاب الوصایا)
1۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃالصحابۃ،باب وجہ تلقیب علی بابی تراب،الحدیث: ۴۷۳۴،ج۴، ص۱۱۶

2۔۔۔۔۔۔تاریخ الخلفائ، فصل فی مبایعۃ علی رضی اللہ عنہ...الخ ، ص۱۳۹

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری ،کتاب الوصایا، باب ان یترک ورثتہ...الخ، الحدیث: ۲۷۴۲،ج۲،ص۲۳۲
Flag Counter