| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضرت سفینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تیس برس تک خلافت رہے گی اس کے بعد بادشاہی ہو جائے گی۔ اس حدیث کو سنا کر حضرت سفینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ گن لو! حضرت ابو بکر کی خلافت دو برس اور حضرت عمر کی خلافت دس برس اور حضرت عثمان کی خلافت بارہ برس اور حضرت علی کی خلافت چھ برس یہ کل تیس برس ہوگئے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہم(1) (مشکوٰۃ جلد۲ ص ۴۶۲ کتاب الفتن)
۷۰ھ اور لڑکوں کی حکومت
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ۷۰ ھ کے شروع اور لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگو۔(2) (مشکوٰۃ جلد ۲ ص ۳۲۳)
اسی طرح حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم چاہو تومیں ان لڑکوں کے نام بتا سکتا ہوں وہ فلاں کے بیٹے اور فلاں کے بیٹے ہیں۔(3)(بخاری جلد ۱ ص ۵۰۹ باب علامات النبوۃ)
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ ۷۰ ھ میں بنوامیہ کے کم عمر حاکموں نے جو فتنے برپا1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ،کتاب الرقاق ،الفصل الثانی ، الحدیث:۵۳۹۵،ج۲،ص۲۸۱ 2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح ،کتاب الامارۃوالقضاء ،الفصل الثالث ، الحدیث:۳۷۱۶،ج۲، ص۱۱ 3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام،الحدیث:۳۶۰۵،ج۲،ص۵۰۱