| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
وہاں ایک اینٹ بھر جگہ کے لیے دو آدمی جھگڑا کرتے ہوں تو تم مصر سے نکل جانا۔ چنانچہ حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنی آنکھ سے مصر میں یہ دیکھا کہ عبدالرحمن بن شرحبیل اور ان کے بھائی ربیعہ ایک اینٹ بھر جگہ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق مصر چھوڑ کر چلے آئے۔ (1)(مسلم جلد۲ ص ۳۱۱ باب وصیۃ النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
بیت المقدس کی فتح
بیت المقدس کی فتح ہونے سے برسوں پہلے حضورِ اقدس مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے اپنی امت سے ارشاد فرمایا کہ
قیامت سے پہلے چھ چیزیں گن رکھو(۱) میری وفات (۲) بیت المقدس کی فتح (۳) پھر طاعون کی وبا جو بکریوں کی گلٹیوں کی طرح تمہارے اندر شروع ہو جائے گی۔(۴) اس قدر مال کی کثرت ہو جائے گی کہ کسی آدمی کو سو دینار دینے پر بھی وہ خوش نہیں ہوگا۔ (۵) ایک ایسا فتنہ اٹھے گا کہ عرب کاکوئی گھر باقی نہیں رہے گا جس میں فتنہ داخل نہ ہوا ہو۔ (۶) تمہارے اور رومیوں کے درمیان ایک صلح ہوگی اور رومی عہد شکنی کریں گے وہ اَسی جھنڈے لے کر تمہارے اوپر حملہ آور ہوں گے اورہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی۔(2)(بخاری جلد۱ ص ۴۵۰ باب مایحذرمن الغدر)خوفناک راستے پرامن ہو جائیں گے
حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں بارگاہ رسالت میں
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، باب وصیۃ النبی با ھل مصر، الحدیث:۲۵۴۳،ص۱۳۷۶ 2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب مایحذر من الغدر، ا لحدیث:۳۱۷۶،ج۲،ص ۳۶۹