Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
752 - 872
مدینہ ہی کا قیام ان کے لیے بہتر تھا۔ کاش وہ لوگ اس بات کو جان لیتے۔

    پھر شام فتح کیا جائے گا تو ایک قوم اپنے گھر والوں اور اپنے پیروی کرنے والوں کو لے کر سواریوں کو ہنکاتے ہوئے(مدینہ سے)شام چلی آئے گی حالانکہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا کاش !وہ لوگ اس کو جان لیتے۔ 

    پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنے گھر والوں اور جوان کا کہنا مانیں گے ان سب کو لے کر سواریوں کو ہنکاتے ہوئے (مدینہ سے) عراق آ جائیں گے حالانکہ مدینہ ہی کی سکونت ان کے لیے بہتر تھی کاش! وہ اس کو جان لیتے۔ (1)                 (مسلم جلد ۱ ص ۴۴۵ باب ترغیب الناس فی سکنی المدینہ)

    یمن    ۸ھ؁ میں فتح ہوااور شام و عراق اس کے بعد فتح ہوئے لیکن غیب جاننے والے مخبر صادق صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے برسوں پہلے یہ غیب کی خبریں دے دی تھیں جو حرف بحرف پوری ہوئیں۔
فتح مصر کی بشارت
    حضرت ابو ذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کابیان ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ عنقریب مصر کو فتح کرو گے اور وہ ایسی زمین ہے جہاں کا سکہ ''قیراط'' کہلاتا ہے۔ جب تم لوگ اس کو فتح کرو تو اس کے باشندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان ایک تعلق اور رشتہ ہے۔ (حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہامصر کی تھیں جن کی اولاد میں سارا عرب ہے۔)اور جب تم دیکھنا کہ
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم ،کتاب الحج، باب الترغیب فی المدینۃ...الخ ، الحدیث:۱۳۸۸، ص۷۱۹
Flag Counter