Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
748 - 872
 اگر مسلمانوں کو ہم جنگ بازوں اور بہادروں سے پالا پڑا تو مسلمانوں کو ان کی چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ اور واقعی صورتحال ایسی ہی تھی کہ سمجھ میں نہیں آ سکتا تھا کہ مٹھی بھر کمزوراوربے سروسامان مسلمانوں سے قبائل یہودکایہ مسلح ومنظم لشکرکبھی شکست کھا جائے گا۔ مگر اس حال و ماحول میں غیب داں رسول نے قرآن کی زبان سے اس غیب کی خبر کا اعلان فرمایا کہ
 وَلَوْ اٰمَنَ اَہۡلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمْ اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَ اِنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمْ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾(1)
اگر اہل کتاب ایمان لے آتے توان کے لیے یہ بہترہوتاان میں کچھ ایماندار اوراکثرفاسق ہیں اوروہ تم (مسلمانوں) کو بجز تھوڑی تکلیف دینے کے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تویقینا پشت پھیر دیں گے پھر ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔(آل عمران)

    چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہود کے قبائل میں سے بنوقریظہ قتل کر دئیے گئے اور بنو نضیر جلا وطن کر دئیے گئے اور خیبر کو مسلمانوں نے فتح کر لیا اور باقی یہود ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوگئے۔
عہد نبوی کے بعد کی لڑائیاں
    قرآن مجید کی پیشگوئیاں اور غیب کی خبریں صرف انہیں جنگوں کے ساتھ مخصوص و محدود نہیں تھیں جو عہد نبوی میں ہوئیں بلکہ اس کے بعد خلفاء کے دور خلافت
1۔۔۔۔۔۔پ۳،ال عمرٰن :۱۱۰،۱۱۱
Flag Counter