Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
747 - 872
بے سروسامان تھے بھلا کسی کے خیال میں بھی آ سکتا تھا کہ ان کے مقابلہ میں ایک ہزار کا لشکر جرار جس کے پاس ہتھیار اور عسکری طاقت کے تمام سامان و اوزار موجود تھے شکست کھا کر بھاگ جائے گااورستر مقتول اور ستر گرفتار ہو جائیں گے مگر جنگ بدر سے برسوں پہلے مکہ مکرمہ میں آیتیں نازل ہوئیں اور رسول برحق نے اقوام عالم کو کئی برس پہلے جنگ بدر میں اس طرح اسلامی فتح مبین کی بشارت سنائی کہ
اَمْ یَقُوۡلُوۡنَ نَحْنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ ﴿۴۴﴾سَیُہۡزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ ﴿۴۵﴾ (1)
کیا وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم سب متحد اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ لشکر عنقریب شکست کھا جائیگا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
وَلَوْ قٰتَلَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۲۲﴾ (2)
اور اگرکفارتم(مسلمانوں)سے لڑیں گے تویقیناوہ پیٹھ پھیرکربھاگ جائیں گے پھر وہ کوئی حامی و مدد گار نہ پائیں گے۔( فتح)
یہودی مغلوب ہوں گے
    مدینہ منورہ اور اس کے اطراف کے یہودی قبائل بہت ہی مالدار، انتہائی جنگجو اور بہت بڑے جنگ باز تھے اور ان کو اپنی لشکری طاقت پر بڑا گھمنڈ اور ناز تھا۔ جنگ ِبدر میں مسلمانوں کی فتح مبین کا حال سن کر ان یہودیوں نے مسلمانوں کو یہ طعنہ دیا کہ قبائل قریش فنون جنگ سے ناواقف اوربے ڈھنگے تھے اس لیے وہ جنگ ہار گئے
1۔۔۔۔۔۔پ۲۷،القمر:۴۴۔۴۵

2۔۔۔۔۔۔پ۲۶،الفتح :۲۲
Flag Counter