کا ذکر پڑھا جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ یکبارگی اس مجلس سے کچھ انوار بلند ہوئے، میں نے ان انوار پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ رحمتِ الٰہی اور ان فرشتوں کے انوار تھے جو ایسی محفلوں میں حاضر ہوا کرتے ہیں۔ (فیوض الحرمین)
جب حجاز پر نجدی حکومت کا تسلط ہوا تو مقابر جنۃ المعلی وجنۃ البقیع کے گنبدوں کے ساتھ ساتھ نجدی حکومت نے اس مقدس یادگار کو بھی توڑ پھوڑ کر مسمار کر دیا اور برسوں یہ مبارک مقام ویران پڑا رہا، مگر میں جب جون 1959ء میں اس مرکز خیروبرکت کی زیارت کے لئے حاضر ہوا تو میں نے اس جگہ ایک چھوٹی سی بلڈنگ دیکھی جو مقفل تھی۔ بعض عربوں نے بتایا کہ اب اس بلڈنگ میں ایک مختصر سی لائبریری اور ایک چھوٹا سا مکتب ہے، اب اس جگہ نہ میلاد شریف ہو سکتا ہے نہ صلاۃ و سلام پڑھنے
کی اجازت ہے ۔میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بلڈنگ سے کچھ دور کھڑے ہو کر چپکے چپکے صلاۃ و سلام پڑھا، اور مجھ پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ میں کچھ دیر تک روتا رہا۔