کی جائے تو کل حدیثوں کی تعداد دو ہزار سات سو اکسٹھ ۲۷۶۱رہ جاتی ہیں۔ (1) (مقدمہ فتح الباری)
باقی حدیثیں جو حضرت امام بخاری علیہ الرحمۃ کو زبانی یاد تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بے اصل اور موضوع نہ ہوں گی بلکہ وہ بھی یقینا صحیح یا حسن ہی ہوں گی تو آخر وہ سب کہاں ہیں؟ اور کیا ہوئیں؟ تو اس بارے میں یہ کہنا ہی پڑے گا کہ دوسرے محدثین نے انہی حدیثوں کو اور کچھ دوسری حدیثوں کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہوگا۔ چنانچہ منزل صہبامیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز عصر کے لیے سورج پلٹ آنے کی حدیث کو بہت سے محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ جیسا کہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ حضرت امام ابو جعفر طحاوی، احمد بن صالح، و امام طبرانی وقاضی عیاض نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے اور امام طحاوی نے تو یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ امام احمد بن صالح جو امام احمد بن حنبل کے ہم پلہ ہیں، فرمایا کرتے تھے کہ یہ روایت عظیم ترین معجزہ اور علامات نبوت میں سے ہے لہٰذا اس کو یاد کرنے میں اہل علم کو نہ پیچھے رہناچاہے نہ غفلت برتنی چاہے۔(2)
(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۵۴)
بہرحال جن جن محدثین نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے ان کی ایک مختصر فہرست یہ ہے: