سچے رسول ہیں۔ خود آپ کی جسمانی و روحانی خداداد طاقتوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی حیات مقدسہ کے مختلف دور کے محیر العقول کارنامے بجائے خود عظیم سے عظیم تر معجزات ہی معجزات ہیں۔ کبھی عرب کے ناقابل تسخیر پہلوانوں سے کشتی لڑکر ان کو پچھاڑ دینا، کبھی دم زدن میں فرش زمین سے سدرۃ المنتہیٰ پر گزرتے ہوئے عرشِ معلیٰ کی سیر، کبھی انگلیوں کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے کردینا، کبھی ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لوٹا دینا، کبھی خندق کی چٹان پر پھاوڑا مارکر روم وفارس کی سلطنتوں میں اپنی امت کو پرچم اسلام لہراتا ہوا دکھا دینا، کبھی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر دینا، کبھی مٹھی بھر کھجور سے ایک بھوکے لشکر کو اس طرح راشن دینا کہ ہر سپاہی نے شکم سیر ہو کر کھالیا وغیرہ وغیرہ معجزات کا ظاہر کر دینا یقینا بلاشبہ یہ وہ معجزانہ واقعات ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی سلیم العقل انسان ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔