Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
70 - 872
پھر تین شخص نظر آئے، ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا، دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت، تیسرے کے ہاتھ میں ایک چمک دار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبہ دھو کر اس نے حضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی، پھر حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایااور ایک لمحہ کے بعد مجھے سپرد کر دیا۔(1)
   (زرقانی علی المواہب ج1 ص113 تا ص115)
    دوسرا باب

                            بچپن

ولادت با سعادت
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ مگر قول مشہور یہی ہے کہ واقعہ ''اصحاب فیل''سے پچپن دن کے بعد 12ربیع الاول مطابق 20 ا پر یل 571؁ ولادت باسعادت کی تاریخ ہے۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عملدرآمد ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ (2) (مدارج النبوۃ ج2 ص14)

تاریخ عالم میں یہ وہ نرالااور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث، گردش لیل و نہار کا مطلوب، خلق آدم کارمز، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانی کعبہ کی دعا،ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا۔کائناتِ وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی ؎
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، ولادتہ...الخ،ج1،ص215

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم دوم ، باب اول، ج2،ص14ملخصاً
Flag Counter