ان کا اصلی نام ''برہ'' (نیکوکار) تھا لیکن چونکہ اس نام سے بزرگی اور بڑائی کا اظہار ہوتا تھا اس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر ''جویریہ'' (چھوٹی لڑکی) رکھ دیا یہ بہت ہی عبادت گزار عورت تھیں نماز فجر سے نماز چاشت تک ہمیشہ اپنے ورد و وظائف میں مشغول رہا کرتی تھیں۔(1)(مدارج جلد۲ ص۴۷۹)
حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے دو بھائی عمرو بن الحارث اور عبداﷲ بن حارث اور ان کی ایک بہن عمرہ بنت حارث یہ تینوں بھی مسلمان ہوکرشرف صحابیت سے سربلندہوئے۔
ان کے بھائی عبداﷲ بن حارث کے اسلام لانے کا واقعہ بہت ہی تعجب خیز بھی ہے اور دلچسپ بھی،یہ اپنی قوم کے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے دربار رسالت میں حاضر ہوئے ان کے ساتھ چند اونٹنیاں اور لونڈی تھی۔ انہوں نے ان سب کو ایک پہاڑ کی گھاٹی میں چھپا دیا اور تنہا بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسیرانِ جنگ کی رہائی کے لئے درخواست پیش کی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیدیوں کے فدیہ کے لئے کیا لائے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری وہ اونٹنیاں کیا ہوئیں؟ اور تمہاری وہ لونڈی کدھر گئی؟ جسے تم فلاں گھاٹی میں چھپا کر آئے ہو۔ زبان رسالت سے یہ علم غیب کی خبر سن کر عبداﷲ بن حارث حیران رہ گئے کہ آخر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو میری لونڈی اور اونٹنیوں کی خبر کس طرح ہو گئی ایک دم ان کے اندھیرے دل میں حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ