Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
678 - 872
حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ قبیلہ بنی مصطلق کے سردار اعظم حارث بن ابوضرار کی بیٹی ہیں ''غزوہ مریسیع'' میں جو کفار مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو کر قیدی بنائے گئے تھے ان ہی قیدیوں میں حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ جب قیدیوں کو لونڈی غلام بنا کر مجاہدین پر تقسیم کر دیا گیا تو حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہاحضرت ثابت بن قیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں۔ انہوں نے ان سے مکاتبت کر لی یعنی یہ لکھ کر دے دیا کہ تم اتنی اتنی رقم مجھے دے دو تو میں تم کو آزاد کر دوں گا، حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں اپنے قبیلے کے سردار اعظم حارث بن ابوضرار کی بیٹی ہوں اور مسلمان ہو چکی ہوں۔ ثابت بن قیس نے مجھے مکاتبہ بنا دیا ہے مگر میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ میں بدل کتابت ادا کرکے آزاد ہو جاؤں اس لئے آپ اس وقت میں میری مالی امداد فرمائیں کیونکہ میرا تمام خاندان اس جنگ میں گرفتار ہو چکا ہے اور ہمارے تمام مال و سامان مسلمانوں کے ہاتھوں میں مال غنیمت بن چکے ہیں اور میں اس وقت بالکل ہی مفلسی و بے کسی کے عالم میں ہوں۔ حضوررحمۃٌ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی فریاد سن کر ان پر رحم آگیا، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اس سے بہتر سلوک تمہارے ساتھ کروں تو کیا تم اس کو منظور کر لو گی؟ انہوں نے پوچھا کہ یارسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ میرے ساتھ اس سے بہتر سلوک کیا فرمائیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تمہارے بدل کتابت کی تمام رقم میں خود تمہاری طرف سے ادا کر دوں اور پھر تم کو آزاد کرکے میں خود تم سے نکاح کر لوں تا کہ تمہارا خاندانی اعزاز و وقار
Flag Counter