| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ لہٰذا اس دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو کیونکہ تم لوگوں کا درود شریف میرے حضور پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جب قبرشریف میں اپ کاجسم مبارک بکھر کرپرانی ہڈیوں کی صورت میں ہوجائے گا تو ہم لوگوں کا درود شریف کیسے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں پیش ہواکریگا؟ تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَآءِ
یعنی اﷲ تعالیٰ نے حضرات انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو زمین پر حرام فرما دیا ہے۔(1)(ابو داود جلد۱ ص ۲۲۱ مجتبائی)
ضروری تنبیہ
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء علیہم السلام کے مقدس اجسام انکی مبارک قبروں میں سلامت رہتے ہیں اور زمین پر حضرت حق جل جلالہ نے حرام فرما دیا ہے کہ ان کے مقدس جسموں پر کسی قسم کا تغیر و تبدل پیدا کرے۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کی یہ شان ہے تو پھر بھلا حضور سید الانبیاء و سید المرسلین اور امام الانبیاء و خاتم النبییّن صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس جسم انور کو زمین کیونکر کھا سکتی ہے؟ اس لئے تمام علماء امت و اولیاء امت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی قبر اطہر میں زندہ ہیں اور خداعزوجل کے حکم سے بڑے بڑے تصرفات فرماتے رہتے ہیں اور اپنی خداداد پیغمبرانہ قوتوں اور معجزانہ طاقتوں سے اپنی امت کی مشکل کشائی اور ان کی فریاد رسی فرماتے رہتے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔ سنن ابی داود ،کتاب الوتر ، باب فی الاستغفار، الحدیث: ۱۵۳۱، ج۲، ص ۱۲۵