| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
وسلم کو خداوند تعالیٰ نے یہ شرف نہیں عطا فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہمامسلمان ہوں مگر بعد میں اس فضل و شرف سے بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سرفراز فرمادیا کہ آپ کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو صاحب ایمان بنا دیا (1)اور قاضی امام ابوبکر ابن العربی مالکی سے یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آباء و اجداد جہنم میں ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ یہ شخص ملعون ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ (2)
یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں ملعون کر دے گا۔(احزاب) حافظ شمس الدین د مشقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس مسئلہ کو اپنے نعتیہ اشعار میں اس طرح بیان فرمایا ہے : ؎
حَبَا اللہُ النَّبِیَّ مَزِیْدَ فَضْلٍ عَلٰی فَضْلٍ وَّکَانَ بِہٖ رَءُ وْفًا
اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کوفضل بالائے فضل سے بھی بڑھ کر فضیلت عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ان پر بہت مہربان ہے۔
فَاَحْیَا اُمَّہٗ وَکَذَا اَبَاہُ لِاِیْمَان بِہٖ فَضْلاً لَّطِیْفًا
کیونکہ خدا وند تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ کو حضور پر ایمان لانے کے لئے اپنے فضل لطیف سے زندہ فرما دیا۔
1۔۔۔۔۔۔روح البیان،سورۃ البقرۃ تحت الآیۃ:119،ج1،ص217 2۔۔۔۔۔۔پ22،الاحزاب:57