کیونکہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو زندہ فرمایااور یہ دونوں ایمان لائے۔(1)
یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ماں باپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قبروں کے پاس روئے اور ایک خشک درخت زمین میں بو دیا،اور فرمایا کہ اگر یہ درخت ہرا ہو گیا تو یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ ان دونوں کا ایمان لانا ممکن ہے ۔ چنانچہ وہ درخت ہرا ہو گیا پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے وہ دونوں اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اسلام لائے اور پھر اپنی اپنی قبروں میں تشریف لے گئے۔
اور ان دونوں کا زندہ ہونا، اور ایمان لانا ،نہ عقلاً محال ہے نہ شرعاً کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتایا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دست مبارک سے بھی چند مردے زندہ ہوئے۔(2) جب یہ سب باتیں ثابت ہیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ
تعالیٰ عنہماکے زندہ ہو کر ایمان لانے میں بھلا کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اور جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ ''میں نے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی تو مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔'' یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زندہ ہو کر ایمان لانے سے بہت پہلے کی ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا زندہ ہو کر ایمان لانا یہ ''حجۃ الوداع'' کے موقع پر ہوا ہے ( جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال سے چند ہی ماہ پہلے کا واقعہ ہے)اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مراتب و درجات ہمیشہ بڑھتے ہی رہے تو ہو سکتا ہے کہ پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ