Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
619 - 872
کے دن تیری حمد کروں اور تیرا شکر بجا لاؤں۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جس بستر پر سوتے تھے وہ چمڑے کا گدا تھا جس میں روئی کی جگہ درختوں کی چھال بھری ہوئی تھی۔

حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میری باری کے دن حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک موٹے ٹاٹ پر سویا کرتے تھے جس کو میں دو تہ کرکے بچھا دیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ میں نے اس ٹاٹ کو چار تہ کر کے بچھا دیا تو صبح کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پہلے کی طرح اس ٹاٹ کو تم دہرا کرکے بچھا دیا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس بستر کی نرمی سے کہیں مجھ پر گہری نیند کا حملہ ہو جائے تو میری نماز تہجد میں خلل پیدا ہو جائے گا۔ روایت ہے کہ کبھی کبھی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ایسی چارپائی پر بھی آرام فرمایا کرتے تھے جو کھردرے بان سے بنی ہوئی تھی۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بغیر بچھونے کے اس چارپائی پر لیٹتے تھے تو جسم نازک پر بان کے نشان پڑ جایا کرتے تھے۔(1) (شفاء شریف جلد۱ ص۸۲،۸۳ وغیرہ)
شجاعت
حضور رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے مثال شجاعت کا یہ عالم تھا کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے بہادر صحابی کا یہ قول ہے کہ جب لڑائی خوب گرم ہو جاتی تھی اور جنگ کی شدت دیکھ کر بڑے بڑے بہادروں کی آنکھیں پتھرا کر سرخ پڑ جایا کرتی تھیں اس وقت میں ہم لوگ رسول اﷲعزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہوکر اپنا بچاؤ کرتے تھے۔ اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم سب لوگوں سے زیادہ
1۔۔۔۔۔۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، فصل واما زھدہ،ج۱، ص۱۴۰ ۔ ۱۴۲ملتقطاً
Flag Counter