Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
618 - 872
خالص پیغمبرانہ وقار پایا جاتا تھا جس سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت نبوت کا جاہ و جلال آفتاب عالم تاب کی طرح ہر خاص و عام کی نظروں میں نمودار رہتا تھا۔
زاہدانہ زندگی
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہنشاہ کونین اور تاجدار دو عالم ہوتے ہوئے ایسی زاہدانہ اور سادہ زندگی بسر فرماتے تھے کہ تاریخ نبوت میں اس کی مثال نہیں مل سکتی، خوراک و پوشاک، مکان و سامان،رہن سہن غرض حیات مبارکہ کے ہر گوشہ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا زہداور دنیا سے بے رغبتی کا عالم اس درجہ نمایاں تھا کہ جس کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیاکی نعمتیں اور لذتیں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نگاہ نبوت میں ایک مچھر کے پر سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی میں کبھی تین دن لگاتار ایسے نہیں گزرے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شکم سیر ہو کر روٹی کھائی ہو ایک ایک مہینہ تک کاشانہ نبوت میں چولہا نہیں جلتا تھا اور کھجور و پانی کے سوا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر والوں کی کوئی دوسری خوراک نہیں ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اے حبیب! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ چاہیں تو میں مکہ کی پہاڑیوں کو سونا بنا دوں اور وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلتی رہیں اور آپ ان کو جس طرح چاہیں خرچ کرتے رہیں مگر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو پسند نہیں کیا اور بارگاہِ خداوندی عزوجل میں عرض کیا کہ اے میرے رب!عزوجل مجھے یہی زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن کھانا کھاؤں تا کہ بھوک کے دن خوب گڑ گڑا کر تجھ سے دعاءیں مانگوں اور آسودگی
Flag Counter