Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
613 - 872
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم روزانہ اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن سے ملاقات فرماتے اور اپنی صاحبزادیوں کے گھروں پر بھی رونق افروز ہو کر ان کی خبر گیری فرماتے اوراپنے نواسوں اور نواسیوں کو بھی اپنے پیار و شفقت سے بار بار نوازتے اور سب کی دلجوئی و رواداری فرماتے اور بچوں سے بھی گفتگو فرما کر ان کی بات چیت سے اپنا دل خوش کرتے اور ان کا بھی دل بہلاتے اپنے پڑوسیوں کی بھی خبر گیری اور ان کے ساتھ انتہائی کریمانہ اور مشفقانہ برتاؤ فرماتے الغرض آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے طرزِ عمل اور اپنی سیرت مقدسہ سے ایسے اسلامی معاشرہ کی تشکیل فرمائی کہ اگر آج دنیا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے لگے تو تمام دنیا میں امن و سکون اور محبت و رحمت کا دریا بہنے لگے اور سارے عالم سے جدال و قتال اور نفاق و شقاق کا جہنم بجھ جائے اور عالم کائنات امن و راحت اور پیار و محبت کی بہشت بن جائے۔
حیاء
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ''حیاء'' کے بارے میں حضرت حق جل جلالہ کا قرآن میں یہ فرمان سب سے بڑا گواہ ہے کہ
اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنۡکُمْ ۫  (1)
بے شک تمہاری یہ بات نبی کو ایذا پہنچاتی ہے لیکن وہ تم لوگوں سے حیا کرتے ہیں( اور تم کو کچھ کہہ نہیں سکتے)

آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان حیاء کی تصویر کھینچتے ہوئے ایک معزز صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ''آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کنواری پردہ
1۔۔۔۔۔۔پ۲۲،الاحزاب:۵۳
Flag Counter