| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
خرچ کرتے رہیں گے جن میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خرچ فرمایا کرتے تھے۔ پھر ان دونوں میں کچھ ان بن ہو گئی اور ان دونوں حضرات نے یہ خواہش ظاہر کی کہ بنو نضیر کی جائیداد تقسیم کرکے آدھی حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی تولیت میں دے دی جائے اور آدھی کے متولی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رہیں مگر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس دخواست کو نا منظور فرما دیا۔(1)
(ابو داؤد ج۲ ص۴۱۳ باب فی وصایا رسول اﷲ و بخاری ج۱ ص۴۳۶ باب فرض الخمس)
لیکن خیبر اور فدک کی زمینیں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک خلفاء ہی کے ہاتھوں میں رہیں حاکم مدینہ مروان بن الحکم نے اس کو اپنی جاگیر بنا لی تھی مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں پھر وہی عملدرآمد جاری کر دیا جو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے دور خلافت میں تھا۔
(2)(ابو داؤد ج۲ ص۴۱۷ باب فی وصایا رسول اﷲ مطبوعہ نامی پریس)
سواری کے جانور
زرقانی علی المواہب وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ملکیت میں سات گھوڑے ،پانچ خچر، تین گدھے، دواونٹنیاں تھیں۔ (3)
(زرقانی ج۳ ص۳۸۶ تا ص۳۹۱)
لیکن اس میں یہ تشریح نہیں ہے کہ بوقت وفات ان میں سے کتنے جانور موجود تھے کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے جانور دوسروں کو عطا فرماتے رہتے تھے۔کچھ نئے خریدتے کچھ ہدایا اور نذرانوں میں ملتے بھی رہے۔
1…سنن ابی داود،کتاب الخراج۔۔۔الخ،باب فی صفایا۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۶۳،۲۹۶۴،ج۳،
ص۱۹۳،۱۹۵
2…سنن ابی داود،کتاب الخراج۔۔۔الخ،باب فی صفایا۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۷۲،ج۳،ص۱۹۸
3…المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب فی ذکرخیلہ۔۔۔الخ،ج۵،ص۹۸۔۱۰۲،۱۰۶۔۱۱۰ملتقطاً