| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾اَلْحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الْمُمْتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾فَمَنْ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾ (1)
بےشک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی طرح ہے انکو مٹی سے بنایا پھر فرمایا ''ہو جا'' وہ فوراً ہو جاتا ہے (اے سننے والے) یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تم شک والوں میں سے نہ ہونا پھر (اے محبوب)جو تم سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اسکے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو پھر ہم گڑگڑا کر دعا مانگیں اور جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت ڈالیں۔(آل عمران)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب ان لوگوں کو اس مباہلہ کی دعوت دی تو ان نصرانیوں نے رات بھر کی مہلت مانگی۔ صبح کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت حسن، حضرت حسین،حضرت علی، حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر مباہلہ کے لئے کاشانہ نبوت سے نکل پڑے مگر نجران کے نصرانیوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا اور جزیہ دینے کا اقرار کرکے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے صلح کر لی۔ (2)
(تفسیر جلالین وغیرہ)1۔۔۔۔۔۔پ۳،آل عمرٰن:۵۹۔۶۱ 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب الوفدالرابع عشر...الخ،ج۵،ص۱۸۶۔۱۹۰ملتقطًا