Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
524 - 872
میں حاضر تھے کہ ناگہاں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں کا ایک بیگ چور لے گیا مگر پھر تمہارے جوان نے اس بیگ کو پا لیا۔ جب یہ لوگ بارگاہ اقدس سے اٹھ کر اپنی منزل پر پہنچے تو ان کے جوان نے بتایا کہ میں سو رہا تھا کہ ایک چور بیگ لے کر بھاگا مگر میں بیدار ہونے کے بعد جب اس کی تلاش میں نکلا تو ایک شخص کو دیکھا وہ مجھ کو دیکھتے ہی فرار ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں کی زمین کھودی ہوئی ہے جب میں نے مٹی ہٹا کر دیکھا تو بیگ وہاں دفن تھا میں اس کو نکال کر لے آیا۔ یہ سن کر سب بول پڑے کہ بلا شبہ یہ رسول برحق ہیں اور ہم کو انہوں نے اسی لئے اس واقعہ کی خبر د ےدی تاکہ ہم لوگ ان کی تصدیق کر لیں۔ ان سب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس جوان نے بھی دربار رسول میں حاضر ہو کر کلمہ پڑھا اور اسلام کے دامن میں آ گیا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ جتنے دنوں ان لوگوں کا مدینہ میں قیام رہے تم ان لوگوں کو قرآن پڑھنا سکھا دو۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۷۴)
وفد نجران
    یہ نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا۔ اس میں ساٹھ سوار تھے۔ چوبیس ان کے شرفا اور معززین تھے اور تین اشخاص اس درجہ کے تھے کہ انہیں کے ہاتھوں میں نجران کے نصاریٰ کا مذہبی اور قومی سارا نظام تھا۔ ایک عاقب جس کا نام ''عبدالمسیح'' تھا دوسرا شخص سید جس کا نام ''ایہم'' تھا تیسرا شخص ''ابو حارثہ بن علقمہ'' تھا۔ ان لوگوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بہت سے سوالات کئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے جوابات دئیے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ پر گفتگو چھڑ گئی۔ ان لوگوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب الوفد الثانی والثلا ثون،وفدغامد،ج۵،ص۲۲۵
Flag Counter