Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
520 - 872
کا ایک بہت ہی بڑا تودہ پڑا ہوا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفد کے لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ جتنی اور جس قدر چاہو ان کھجوروں میں سے لے لو۔ ان لوگوں نے اپنی حاجت اور مرضی کے مطابق کھجوریں لے لیں۔ حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ سب سے آخر میں جب میں کھجوریں لینے کے لئے مکان میں داخل ہوا تو مجھے ایسا نظر آیا کہ گویا اس ڈھیر میں سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ہے۔(1)

یہ وہی حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ جو فتح مکہ کے دن قبیلہ مزینہ کے علم بردار تھے یہ اپنے سات بھائیوں کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ کچھ گھر تو ایمان کے ہیں اور کچھ گھر نفاق کے ہیں اور آل مقرن کا گھر ایمان کا گھر ہے۔(2) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۷)
وفد دوس
    اس وفد کے قائد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھے یہ ہجرت سے قبل ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ بھی بڑا ہی عجیب ہے یہ ایک بڑے ہوش مند اور شعلہ بیان شاعر تھے۔ یہ کسی ضرورت سے مکہ آئے تو کفار قریش نے ان سے کہہ دیا کہ خبردار تم محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے نہ ملنا اور ہر گز ہر گز ان کی بات نہ سننا۔ ان کے کلام میں ایسا جادو ہے کہ جو سن لیتا ہے وہ اپنا دین و مذہب چھوڑ بیٹھتا ہے اور عزیز و اقارب سے اس کا رشتہ کٹ جاتا ہے۔ یہ کفار مکہ کے فریب میں آ گئے اور اپنے کانوں میں انہوں نے روئی بھر لی کہ کہیں قرآن کی آواز کانوں
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب الوفدالثانی عشر، وفدمزنیۃ،ج۵، ص۱۷۸۔۱۷۹

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب نہم،ج۲،ص۳۶۷
Flag Counter