| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اپنے گھر سے یہ مقصد لے کر نہیں حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے کچھ مال عطا فرمائیں بلکہ میری فقط اتنی حاجت اور دلی تمنا ہے جس کو دل میں لے کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ مجھے بخش دے اور مجھ پر اپنا رحم فرمائے اور میرے دل میں بے نیازی اور استغناء کی دولت پیدا فرما دے۔ نوجوان کی اس دلی مراد ا ور تمنا کو سن کر محبوبِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اس کے حق میں ان لفظوں کے ساتھ دعا فرمائی کہ
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ وَاجْعَلْ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ
اے اﷲ! عزوجل اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کے دل میں بے نیازی ڈال دے۔
پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو اس کی قوم کا امیر مقرر فرما دیا اور یہی نوجوان اپنے قبیلے کی مسجد کا امام ہو گیا۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۴)وفد مزینہ
اس وفد کے سربراہ حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ کے چار سو آدمی حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور جب ہم لوگ اپنے گھروں کو واپس ہونے لگے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر! تم ان لوگوں کو کچھ تحفہ عنایت کرو۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میرے گھر میں بہت ہی تھوڑی سی کھجوریں ہیں۔ یہ لوگ اتنے قلیل تحفہ سے شاید خوش نہ ہوں گے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر یہی ارشاد فرمایا کہ اے عمر!جاؤ ان لوگوں کو ضرور کچھ تحفہ عطا کرو۔ارشادِ نبوی سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان چار سو آدمیوں کو ہمراہ لے کر مکان پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مکان میں کھجوروں
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب نہم،ج۲، ص۳۶۴