| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر دعا فرما دی اور فوراً ہی بارش ہونے لگی اور لگاتار ایک ہفتہ تک موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا پھر دوسرے جمعہ کو جب کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے ایک اعرابی نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ) چوپائے ہلاک ہونے لگے اور بال بچے بھوک سے بلکنے لگے اور تمام راستے منقطع ہو گئے۔ لہٰذا دعا فرما دیجئے کہ یہ بارش پہاڑوں پر برسے اور کھیتوں بستیوں پر نہ برسے۔ چنانچہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا فرما دی تو بادل شہر مدینہ اور اس کے اطراف سے کٹ گیا اور آٹھ دن کے بعد مدینہ میں سورج نظر آیا۔ (1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۵۹)
وفد بنی مرہ
اس وفد میں بنی مرہ کے تیرہ آدمی مدینہ آئے تھے۔ انکا سردار حارث بن عوف بھی اس وفد میں شامل تھا۔ ان سب لوگوں نے بارگاہ اقدس میں اسلام قبول کیا اور قحط کی شکایت اور باران رحمت کی دعا کے لئے درخواست پیش کی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لفظوں کے ساتھ دعا مانگی کہ '' اَللّٰھُمَّ اسْقِھِمُ الْغَیْثَ'' ( اے اﷲ! ان لوگوں کو بارش سے سیراب فرما دے) پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر شخص کو دس دس اوقیہ چاندی اور چار چار سو درہم انعام اور تحفہ کے طور پر عطا کریں۔ اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے سردار حضرت حارث بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارہ اوقیہ چاندی کا شاہانہ عطیہ مرحمت فرمایا۔
جب یہ لوگ مدینہ سے اپنے وطن پہنچے تو پتا چلا کہ ٹھیک اسی وقت1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب نہم،ج۲، ص۳۵۹