اس کے بعد بنی تمیم کا ایک وفد مدینہ آیا جس میں اس قبیلے کے بڑے بڑے سردار تھے اور ان کا رئیس اعظم اقرع بن حابس اور ان کا خطیب ''عطارد'' اور شاعر ''زبرقان بن بدر'' بھی اس وفد میں ساتھ آئے تھے۔ یہ لوگ دندناتے ہوئے کاشانہ نبوت کے پاس پہنچ گئے اور چلانے لگے کہ آپ نے ہماری عورتوں اور بچوں کو کس جرم میں گرفتار کرر کھا ہے۔
اس وقت میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں قیلولہ فرما رہے تھے۔ ہر چند حضرت بلال اور دوسرے صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے ان لوگوں کو منع کیا کہ تم لوگ کاشانۂ نبوی کے پاس شور نہ مچاؤ۔ نماز ظہر کے لئے خود حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لانے والے ہیں۔ مگر یہ لوگ ایک نہ مانے شور مچاتے ہی رہے جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم باہر تشریف لا کر مسجد نبوی میں رونق افروز ہوئے تو بنی تمیم کا رئیس اعظم اقرع بن حابس بولا کہ اے محمد!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم گفتگو کریں کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جس کی مدح کردیں وہ مزین ہو جاتا ہے اور ہم لوگ جس کی مذمت کر دیں وہ عیب سے داغدار ہوجاتا ہے۔
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ غلط کہتے ہو۔یہ خدا وند تعالیٰ ہی کی شان ہے کہ اس کی مدح زینت اور اس کی مذمت داغ ہے تم لوگ یہ کہو کہ تمہارا مقصد کیا ہے ؟ یہ سن کر بنی تمیم کہنے لگے کہ ہم اپنے خطیب اور اپنے شاعر کو لے کر یہاں آئے ہیں تاکہ ہم اپنے قابل فخر کارناموں کو بیان کریں اور آپ اپنے مفاخر کو پیش کریں۔
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں شعر و شاعری کے لئے بھیجا گیا ہوں نہ اس طرح کی مفاخرت کا مجھے خداعزوجل کی طرف سے حکم ملا ہے۔ میں تو خدا کا رسول