کر دیا۔ جس سے منبر نبوی کی تینوں پرانی سیڑھیاں اوپر ہو گئیں تاکہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم جن سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے اب دوسرا کوئی خطیب ان پر قدم نہ رکھے۔ جب یہ منبر بہت زیادہ پرانا ہو کر انتہائی کمزور ہو گیا تو خلفاء عباسیہ نے بھی اس کی مرمت کرائی۔ (1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۲۷)
(۵)اسی سال قبیلہ عبدالقیس کا وفد حاضر خدمت ہوا ۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خوش آمدید کہااور ان لوگوں کے حق میں یوں دعا فرمائی کہ ''اے اﷲ!عزوجل توعبدالقیس کو بخش دے''جب یہ لوگ بارگاہ رسالت میں پہنچے تو اپنی سواریوں سے کود کر دوڑ پڑے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس قدم کو چومنے لگے اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو منع نہیں فرمایا۔ (2) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۳۰)