Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
471 - 872
تھا،اپنے بعد چھوڑا ۔حضرت بی بی فاطمہ زہراء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد آپ حضرت امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح کر لیں۔ چنانچہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وصیت پر عمل کیا۔ (1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۲۵)

(۳)اسی سال مدینہ میں غلہ کی گرانی بہت زیادہ بڑھ گئی تو صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے درخواست کی کہ یارسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ غلہ کا بھاؤ مقرر فرما دیں تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے غلہ کی قیمت پر کنٹرول فرمانے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ
اِنَّ اﷲَ ھُوَ الْمُسَعّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ
اﷲ ہی بھاؤ مقرر فرمانے والا ہے وہی روزی کو تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا، روزی رساں ہے۔(2)

( مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۲۵)

    (۴)بعض مؤرخین کے بقول اسی سال مسجد نبوی میں منبر شریف رکھا گیا۔ اس سے قبل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ پڑھا کرتے تھے اور بعض مؤرخین کا قول ہے کہ منبر   ۷ھ؁ میں رکھا گیا۔ یہ منبر لکڑی کا بنا ہوا تھا جو ایک انصاری عورت نے بنوا کر مسجد میں رکھوایا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چاہا کہ میں اس منبر کو تبرکاً ملک شام لے جاؤں مگر انہوں نے جب اس کو اس کی جگہ سے ہٹایا تو اچانک سارے شہر میں ایسا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت شرمندہ ہوئے اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے معذرت خواہ ہوئے اور انہوں نے اس منبر کے نیچے تین سیڑھیوں کا اضافہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب ہشتم،ج۲،ص۳۲۵

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب ہشتم،ج۲،ص۳۲۵
Flag Counter