Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
469 - 872
میں ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم لوگ مالک بن عوف کو خبر کردو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ جائے تو میں اس کا سارا مال اس کو واپس دے دوں گا۔ اس کے علاوہ اس کو ایک سو اونٹ اور بھی دوں گا ۔مالک بن عوف کو جب یہ خبر ملی تو وہ رسول اﷲ عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہو گئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کا کل مال ان کے سپرد فرما دیا اور وعدہ کے مطابق ایک سو اونٹ اس کے علاوہ بھی عنایت فرمائے۔ مالک بن عوف آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس خلق عظیم سے بے حد متأثر ہوئے اور آپ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر یہ ہیں:
مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہٖ			فِی النَّاسِ کُلِّھِمْ بِمِثْلِ مُحَمَّدٖ

اَوْفیٰ وَاَعْطٰی لِلْجَزِیْلِ اِذَا اجْتُدِی		وَمَتٰی تَشَأ یُخْبِرُکَ عَمَّا فِیْ غَدٖ
    یعنی تمام انسانوں میں حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مثل نہ میں نے دیکھا نہ سنا جو سب سے زیادہ وعدہ کو پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ مال کثیر عطا فرمانے والے ہیں۔ اور جب تم چاہو ان سے پوچھ لو وہ کل آئندہ کی خبر تم کو بتا دیں گے۔(1)

روایت ہے کہ نعت کے یہ اشعار سن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ان سے خوش ہو گئے اور ان کے لئے کلمات خیر فرماتے ہوئے انہیں بطور انعام ایک حلہ بھی عنایت فرمایا۔ (سیرت ابن ہشام ج۴ ص۴۹۱ و مدارج ج۲ ص۳۲۴)
عمره جعرانہ
    اس کے بعد نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جعرانہ ہی سے عمرہ کا ارادہ فرمایا اور احرام باندھ کر مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد پھر مدینہ واپس
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،باب امر اموال ھواز ن و سبایا ھا۔۔۔۔۔۔الخ،ص۵۰۵
Flag Counter