Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
468 - 872
دونوں میں سے ایک کو تم اختیار کر لو یا مال لے لویا قیدی۔ یہ سن کر وفد نے قیدیوں کو واپس لینا منظور کیا۔ اس کے بعد آپ نے فوج کے سامنے ایک خطبہ پڑھا اور حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا کہ

    اے مسلمانو! یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آ گئے ہیں ا ور میری یہ رائے ہے کہ میں ان کے قیدیوں کو واپس کر دوں تو تم میں سے جو خوشی خوشی اس کو منظور کرے وہ اپنے حصہ کے قیدیوں کو واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ ان قیدیوں کے بدلے میں دوسرے قیدیوں کو لے کر ان کو واپس کرے تو میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ مجھے جو غنیمت عطا فرمائے گا میں اس میں سے اس کا حصہ دوں گا۔ یہ سن کر ساری فوج نے کہہ دیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہم سب نے خوشی خوشی سب قیدیوں کو واپس کر دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح پتا نہیں چلتا کہ کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں دی؟ لہٰذا تم لوگ اپنے اپنے چودھریوں کے ذریعہ مجھے خبر دو۔ چنانچہ ہر قبیلہ کے چودھریوں نے دربار رسالت میں آ کر عرض کر دیا کہ ہمارے قبیلہ والوں نے خوش دلی کے ساتھ اپنے حصہ کے قیدیوں کو واپس کر دیا ہے۔(1)(بخاری ج۱ ص۳۴۵ باب من ملک من العرب و بخاری ج۲ ص۳۰۹ باب الوکالۃ فی قضاء الدیون و بخاری ج۲ ص۶۱۸)
غیب داں رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
    رسول اﷲ عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہوازن کے وفد سے دریافت فرمایا کہ مالک بن عوف کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ''ثقیف'' کے ساتھ طائف
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ...الخ، الحدیث:۲۳۰۷،۲۳۰۸،ج۲،ص۸۰
Flag Counter