Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
42 - 872
مدینہ منورہ
    مکہ مکرمہ سے تقریباً تین سو بیس کیلومیٹر کے فاصلہ پر مدینہ منورہ ہے جہاں مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اوردس برس تک مقیم رہ کر اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے اور اسی شہر میں آپ کا مزار مقدس ہے جو مسجد نبوی کے اندر''گنبدخضرا''کے نام سے مشہورہے ۔

    مدینہ منورہ سے تقریبا ساڑھے چارکیلومیٹر جانب شمال کو''احد ''کا پہاڑ ہے جہاں حق وباطل کی مشہورلڑائی ''جنگ احد''لڑی گئی اسی پہاڑ کے دامن میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار مبارک ہے جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔

    مدینہ منورہ سے تقریباپانچ کیلومیٹر کی دور ی پر ''مسجد قبا''ہے ۔ یہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہجرت کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قیام فرمایا اوراپنے دست مبارک سے اس مسجد کو تعمیر فرمایااس کے بعد مدینہ منورہ میں تشریف لائے اورمسجد نبوی کی تعمیر فرمائی۔ مدینہ منورہ کی بندرگاہ ''ینبع ''ہے جو مدینہ منورہ سے ایک سو سترہ کیلومیٹر کے فاصلہ پر بحیرہ قلزم کے ساحل پر واقع ہے ۔
خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عرب میں کیوں ؟
    اگر ہم عرب کو کرۂ زمین کے نقشہ پر دیکھیں تو اس کے محل وقوع سے یہی معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملک عرب کو ایشیا، یورپ اورافریقہ تین براعظموں کے وسط میں جگہ دی ہے اس سے بخوبی یہ سمجھ میں آسکتاہے کہ اگر تمام دنیا کی ہدایت کے واسطے ایک واحد مرکز قائم کرنے کے لیے ہم کسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیں تو ملک عرب ہی اس کے
Flag Counter