| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پرورش میں رہے گی۔پھر تینوں صاحبوں کی دلداری و دل جوئی کرتے ہوئے رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ ''اے علی!تم مجھ سے ہو اورمیں تم سے ہوں۔''اور حضرت جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ''اے جعفر !تم سیرت و صورت میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔'' اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ فرمایا کہ'' اے زید!تم میرے بھائی اور میرے مولیٰ(آزادکردہ غلام )ہو۔'' (1) (بخاری ج۲ص ۶۱۰عمرۃ القضاء )
حضرت میمونہ کا نکاح
اسی عمرۃ القضاء کے سفر میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چچی ام فضل زوجہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بہن تھیں۔ عمرۃ القضاء سے واپسی میں جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ''سرف'' میں پہنچے تو ان کو اپنے خیمہ میں رکھ کر اپنی صحبت سے سرفراز فرمایااور عجیب اتفاق کہ اس واقعہ سے چوالیس برس کے بعد اسی مقام سرف میں حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا اور ان کی قبرشریف بھی اسی مقام میں ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ ان کی وفات کا سال ۵۱ھ ہے۔مفصل بیان ان شاء اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بیان میں آئے گا۔(2)
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب عمرۃ القضائ...الخ،الحدیث ۴۲۵۱،ج۳، ص۹۴ والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب عمرۃ القضائ،ج۳،ص۳۲۵،۳۲۶ ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب عمرۃ القضائ، ج۳،ص۳۲۸،۳۲۹ ملخصاً