Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
39 - 872
 (۳۹)حضرت علی بن برہان الدین(صاحب السیرۃ الحلبیہ)(متوفی ۱۰۴۴؁ھ)

(۴۰)حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی(صاحب مدارج النبوۃ)(متوفی ۱۰۵۲؁ھ)
سیرت کیاہے ؟
    قدمائے محدثین وفقہاء ''مغازی وسیر''کے عنوان کے تحت میں فقط غزوات اوراس کے متعلقات کو بیان کرتے تھے مگر سیرت نبویہ کے مصنفین نے اس عنوان کو اس قدرو سعت دے دی کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے وفات اقدس تک کے تمام مراحل حیات ،آپ کی ذات وصفات، آپ کے دن رات اورتمام وہ چیزیں جن کو آپ کی ذات والا صفات سے تعلقات ہوں خواہ وہ انسانی زندگی کے معاملات ہوں یا نبو ت کے معجزات ہوں ان سب کو''کتاب سیرت '' ہی کے ابواب وفصول اورمسائل شمار کرنے لگے۔

    چنانچہ اعلان نبوت سے پہلے اور بعد کے تمام واقعات کا شانہ نبوت سے جبل حراء کے غار تک اورجبل حراء کے غار سے جبل ثور کے غار تک اورحرم کعبہ سے طائف کے بازار تک اورمکہ کی چراگاہوں سے ملک شام کی تجارت گاہوں تک اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حجروں کی خلوت گاہوں سے لیکر اسلامی غزوات کی رزم گاہوں تک آپ کی حیات مقدسہ کے ہر ہرلمحہ میں آپ کی مقدس سیرت کاآفتاب عالم تاب جلوہ گر ہے ۔

    اسی طرح خلفاء راشدین ہوں یادوسرے صحابۂ کرام ، ازواج مطہرات ہوں یا آپ کی اولاد عظام ، ان سب کی کتاب زندگی کے اوراق پر سیرت نبوت کے نقش ونگار پھولوں کی طرح مہکتے ، موتیوں کی طرح چمکتے اورستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں۔ اور
Flag Counter